سورۃ Ibrahim (آیت 34) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
اشتہار
وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ
رومن تلفظ
Wa in ta'uddu ni'matallahi la tuhsuha, innal-insana lazalumun kaffar.
ترجمہ
سورۃ Ibrahim کی مبارک آیت (34): جو اہل ایمان کے لیے شکر گزاری اور امید کے حوالے سے ایک عظیم ربانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اشتہار
جامع تشریح و تفسیر
سورۃ Ibrahim کی یہ آیت قرآنی حکمت کا شاہکار ہے۔ مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت قلب و روح کو جلا بخشتی ہے اور انسان کو دنیا کی الجھنوں میں صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے۔
روزمرہ زندگی کے لیے عملی رہنمائی
- ۱۔ دلی سکون: اس آیت کی تلاوت سے مصیبت اور پریشانی کے وقت بے پناہ حوصلہ اور تسکین ملتی ہے۔
- ۲۔ اخلاقی اصول: روزمرہ معاملات میں سچائی، دیانت داری اور حسنِ اخلاق کی ترغیب دیتی ہے۔
- ۳۔ توکل علی اللہ: اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
تاریخی پس منظر اور سبب نزول
یہ آیت نبوی دور میں سورۃ Ibrahim (قرآن کی 14ویں سورۃ) کے حصے کے طور پر نازل ہوئی، جس نے صحابہ کرامؓ کی فکری و اخلاقی تربیت فرمائی اور رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ بنی۔
🌐 Baca Ayat Ini Dalam Bahasa Lain (10 Bahasa Dunia)
اشتہار
دیگر منتخب آیات
Al-Baqarah : 152