سورۃ Az-Zumar (آیت 53) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
اشتہار
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
رومن تلفظ
Qul ya 'ibadiyalladhina asrafu 'ala anfusihim la taqnatu mir-rahmatillah, innallaha yaghfirudh-dhunuba jami'a, innahu huwal-ghafurur-rahim.
ترجمہ
سورۃ Az-Zumar کی مبارک آیت (53): جو اہل ایمان کے لیے دلی سکون اور اطمینان کے حوالے سے ایک عظیم ربانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اشتہار
جامع تشریح و تفسیر
سورۃ Az-Zumar کی یہ آیت قرآنی حکمت کا شاہکار ہے۔ مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت قلب و روح کو جلا بخشتی ہے اور انسان کو دنیا کی الجھنوں میں صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے۔
روزمرہ زندگی کے لیے عملی رہنمائی
- ۱۔ دلی سکون: اس آیت کی تلاوت سے مصیبت اور پریشانی کے وقت بے پناہ حوصلہ اور تسکین ملتی ہے۔
- ۲۔ اخلاقی اصول: روزمرہ معاملات میں سچائی، دیانت داری اور حسنِ اخلاق کی ترغیب دیتی ہے۔
- ۳۔ توکل علی اللہ: اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
تاریخی پس منظر اور سبب نزول
یہ آیت نبوی دور میں سورۃ Az-Zumar (قرآن کی 39ویں سورۃ) کے حصے کے طور پر نازل ہوئی، جس نے صحابہ کرامؓ کی فکری و اخلاقی تربیت فرمائی اور رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ بنی۔
🌐 Baca Ayat Ini Dalam Bahasa Lain (10 Bahasa Dunia)
اشتہار
دیگر منتخب آیات
Al-Baqarah : 216
سورۃ Al-Baqarah (آیت 216) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
Al-Baqarah : 286
سورۃ Al-Baqarah (آیت 286) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
Ali 'Imran : 139