سورۃ An-Nisa (آیت 29) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
اشتہار
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
رومن تلفظ
Ya ayyuhalladhina amanu la ta'kulu amwalakum baynakum bil-batili illa an takuna tijaratan 'an taradim minkum, wa la taqtulu anfusakum, innallaha kana bikum rahima.
ترجمہ
سورۃ An-Nisa کی مبارک آیت (29): جو اہل ایمان کے لیے اخلاق، انصاف اور انسانیت کے حوالے سے ایک عظیم ربانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اشتہار
جامع تشریح و تفسیر
سورۃ An-Nisa کی یہ آیت قرآنی حکمت کا شاہکار ہے۔ مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت قلب و روح کو جلا بخشتی ہے اور انسان کو دنیا کی الجھنوں میں صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے۔
روزمرہ زندگی کے لیے عملی رہنمائی
- ۱۔ دلی سکون: اس آیت کی تلاوت سے مصیبت اور پریشانی کے وقت بے پناہ حوصلہ اور تسکین ملتی ہے۔
- ۲۔ اخلاقی اصول: روزمرہ معاملات میں سچائی، دیانت داری اور حسنِ اخلاق کی ترغیب دیتی ہے۔
- ۳۔ توکل علی اللہ: اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
تاریخی پس منظر اور سبب نزول
یہ آیت نبوی دور میں سورۃ An-Nisa (قرآن کی 4ویں سورۃ) کے حصے کے طور پر نازل ہوئی، جس نے صحابہ کرامؓ کی فکری و اخلاقی تربیت فرمائی اور رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ بنی۔
🌐 Baca Ayat Ini Dalam Bahasa Lain (10 Bahasa Dunia)
اشتہار
دیگر منتخب آیات
Al-Baqarah : 256
سورۃ Al-Baqarah (آیت 256) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
Ali 'Imran : 103
سورۃ Ali 'Imran (آیت 103) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
Ali 'Imran : 133-134