سورۃ Adh-Dhariyat (آیت 56) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
اشتہار
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
رومن تلفظ
Wa ma khalaqtul-jinna wal-insa illa liya'budun.
ترجمہ
سورۃ Adh-Dhariyat کی مبارک آیت (56): جو اہل ایمان کے لیے توحید اور عظمت الٰہی کے حوالے سے ایک عظیم ربانی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اشتہار
جامع تشریح و تفسیر
سورۃ Adh-Dhariyat کی یہ آیت قرآنی حکمت کا شاہکار ہے۔ مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت قلب و روح کو جلا بخشتی ہے اور انسان کو دنیا کی الجھنوں میں صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے۔
روزمرہ زندگی کے لیے عملی رہنمائی
- ۱۔ دلی سکون: اس آیت کی تلاوت سے مصیبت اور پریشانی کے وقت بے پناہ حوصلہ اور تسکین ملتی ہے۔
- ۲۔ اخلاقی اصول: روزمرہ معاملات میں سچائی، دیانت داری اور حسنِ اخلاق کی ترغیب دیتی ہے۔
- ۳۔ توکل علی اللہ: اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
تاریخی پس منظر اور سبب نزول
یہ آیت نبوی دور میں سورۃ Adh-Dhariyat (قرآن کی 51ویں سورۃ) کے حصے کے طور پر نازل ہوئی، جس نے صحابہ کرامؓ کی فکری و اخلاقی تربیت فرمائی اور رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ بنی۔
🌐 Baca Ayat Ini Dalam Bahasa Lain (10 Bahasa Dunia)
اشتہار
دیگر منتخب آیات
Al-Baqarah : 285
سورۃ Al-Baqarah (آیت 285) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
Ali 'Imran : 31
سورۃ Ali 'Imran (آیت 31) - حکمت، تفسیر اور عملی رہنمائی
Ali 'Imran : 102